Saltar al contenido principal
Page 2612 of 6193
1 2.610 2.611 2.612 2.613 2.614 6.193

یو پی : پرائیویٹ اسکول ’تعلیم کا حق‘ قانون کی کر رہے ہیں خلاف ورزی: بھارت

بھارت / مئی 6، 2018 / مصنف: سندیپ پانڈے

تعلیم کا حق ایکٹ کے تحت غریب اور کمزور طبقہ کے بچوں کو داخلہ نہیں دینے والے اسکولوں کی ہمت اتنی بڑھ گئی ہے کہ انھوں نے اپنی تنظیم بنا کر سپریم کورٹ میں اس قانون کو چیلنج پیش کر دیا ہے۔

اتر پردیش میں تعلیم کا حق ایکٹ 2009 نافذ ہوئے تقریباً چار سال ہو گئے ہیں۔ اس ایکٹ کے تحت غیر امداد یافتہ یا پرائیویٹ اسکولوں میں درجہ 1 سے 8 تک میں غریب اور کمزور طبقہ کے کم از کم 25 فیصد بچوں کو مفت داخلہ کا انتظام ہے۔ اس انتظام کے تحت پورے اتر پردیش میں سال 16-2015 میں 3135، سال 17-2016 میں 17136 او رسال 18-2017 میں 27662 داخلے ہوئے۔ لیکن بیسک ایجوکیشنل افسر یا ضلع مجسٹریٹ کے احکام کے باوجود لکھنؤ کے سٹی مانٹیسری اسکول، نویُگ ریڈینس، سٹی انٹرنیشنل، سینٹ میری انٹرمیڈیٹ کالج، لکھنؤ ماڈل پبلک اسکول، کانپور کےو یریندر سوروپ و چنٹل پبلک اسکول اور علی گڑھ کے بلو برڈ اسکول اور نہرو چلڈرنس جونیر ہائی اسکول جیسے ریاست کے کئی بڑے اسکول کمزور طبقہ کے ایک بھی بچے کا داخلہ نہیں لے رہے ہیں۔

حق تعلیم ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والے ایسے اسکولوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہونے کے سبب ان کی ہمت اتنی بڑھ گئی ہے کہ انھوں نے اپنی تنظیم بنا کر سپریم کورٹ میں اس قانون کو ہی چیلنج کر دیا ہے۔ تنظیم نے دہلی کے رام لیلا میدان میں ایک ریلی منعقد کر کے قانون کو خارج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کی دلیل ہے کہ حکومت کے ذریعہ اتر پردیش میں دی جانے والی 450 روپے فی ماہ کی فیس بہت کم ہے اور اسے طے کرنے کی کوئی مدلل بنیاد نہیں ہے۔ لیکن مجموعی طور پر سچائی یہ ہے کہ پرائیویٹ اسکولوں کو یہ بات بالکل برداشت نہیں ہے کہ ان کے ذریعہ تاناشاہی طریقے سے چلائے جا رہے اسکولوں میں تعلیم کے حق قانون کے ذریعہ کسی قسم کی سرکاری مداخلت ہو۔

پرائیویٹ اسکول اخلاقی طور پر بے حد کمزور بنیاد پر کھڑے ہیں۔ ان کے ذریعے لی جانے والی فیس کا کوئی مدلل بنیاد نہیں ہے۔ منمانی فیس کے علاوہ وہ مختلف طریقوں سے دوسری کمائی بھی کرتے ہیں، مثلاً کاپی-کتاب اور ڈریس کی خرید کے لیے اپنی دکانیں طے کرنا۔

حق تعلیم قانون کے تحت آن لائن درخواست کے انتظام کا یہ دوسرا سال ہے۔ لیکن اب تک 82388 میں سے صرف 20427 اسکولوں کو ہی ویب سائٹ پر دکھایا گیا ہے کیونکہ بقیہ اسکولوں کی اس میں شمولیت کا عمل ابھی تک پورا نہیں ہوا ہے۔ ایسے میں جو سرپرست اپنے بچوں کا اس قانون کے تحت داخلہ کرانا چاہتے ہیں انھیں 75 فیصد اسکول تو دستیاب ہی نہیں ہیں۔

لکھنؤ میں آر ڈی میموریل انٹرمیڈیٹ کالج اور سدھارتھ گلوبل اسکول جیسے اسکول، جن کے یہاں گزشتہ سال مفت تعلیم کے انتظام کے تحت داخلے ہوئے تھے، اس بار ان کے نام ویب سائٹ سے غائب ہیں۔ وارانسی کے سب سے بڑے اسکول ’سن بیم‘ کا نام بھی غائب ہے۔ وارانسی کے کچھ وارڈوں کے نام ہی ویب سائٹ پر نہیں ہیں۔ یعنی ان وارڈوں میں رہنے والے سرپرستوں کے بچے تعلیم کا حق ایکٹ کی دفعہ (ج) (1)12 کا فائدہ اٹھانے سے محروم ہو گئے ہیں، کیونکہ بچے کا داخلہ پڑوس کے ہی کسی اسکول میں کرایا جا سکتا ہے اور اس سال اتر پردیش حکومت نے پڑوس کو وارڈ کی شکل میں ہی متعارف کیا ہے۔ پہلے مرحلہ کی لاٹری میں ریاست کے 75 میں سے صرف 48 اضلاع نے ہی ان بچوں کی فہرست نکالی جو اس قانون کے تحت داخلے کے لیے منتخب کیے گئے تھے۔ وارانسی میں پہلے مرحلہ میں 2597 درخواستوں کو جانچ نہ ہونے کے سبب چھوڑ دیا گیا۔ یہ واضح کرتا ہے کہ حکومت بغیر پوری تیاری کے آن لائن داخلے کے لیے فارم بھروا رہی ہے۔ ایسے میں حکومت کے ذریعہ قوت ارادی کی عدم موجودگی میں صرف خانہ پری کرنے کا کیا مطلب ہے؟

جن اسکولوں کو نشان زد کیا گیا ہے وہ بھی ٹھیک سے نہیں ہوا۔ لکھنؤ کے راجہ بازار چوک کی باشندہ روبی بانو نے جب اپنے بیٹے سید التمش علی کا آن لائن فارم بھرا تو انھیں فاطمہ گرلس جونیر ہائی اسکول الاٹ ہوا جو ویب سائٹ پر تو ان کے وارڈ میں دکھایا جا رہا ہے لیکن اصل میں مہانگر وارڈ میں ہے جو ان کے پڑوس میں نہیں ہے، اور یہ ایکٹ کے مطابق لازمی ہے۔ ان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ ایک دوسرا بچہ گود میں ہوتے ہوئے وہ پہلے بچے کو اتنی دور پڑھنے بھیجیں۔

داخلے کے لیے بیسک ایجوکیشن افسر کے دفتر کے ذریعہ جو لاٹری نکالی جا رہی ہے اس پر بھی سوال کھڑے ہوتے ہیں۔ جب ایکٹ کے مطابق کم از کم 25 فیصد بچوں کے داخلے کی بات ہے اور حکومت جب فیس کی ادائیگی کر رہی ہے تو اسکولوں کو 25 فیصد سے زیادہ بچوں کا بھی داخلہ لینا چاہیے۔ اگر اسکول میں کل بچوں کی متعینہ تعداد سے زیادہ درخواستیں آ جاتی ہیں تو پڑوس کے سب سے نزدیکی اسکول میں داخلہ ہونا چاہیے۔ لیکن اتنے زیادہ داخلے ابھی تک کسی اسکول میں نہیں ہوئے ہیں۔

گزشتہ سالوں میں جن بچوں کا داخلہ حق تعلیم ایکٹ کی دفعہ (ج) (1) 12 کے تحت ہو گیا تھا، ان کے لیے بھی راہ آسان نہیں ہے۔ اَنش کمار کا داخلہ لکھنؤ کے یونیورسل مانٹیسری اسکول اور گرلس انٹر کالج میں دو سال پہلے ہوا تھا۔ گزشتہ سال نرسری درجہ میں اس کے 31.93 فیصد نمبر آئے، لیکن اسے پرموشن دے دیا گیا۔ اس سال کنڈرگارٹن میں اس کے 17.77 فیصد نمبر آئے اور اسے ناکام قرار دے کر اسکول سے نکال دیا گیا ہے۔ جب کہ ایکٹ کی دفعہ 16 کے تحت بچے کو کسی کلاس میں روکا نہیں جا سکتا اور نہ ہی نکالا جا سکتا ہے۔ 18-2017 میں تین بار اس کے والدین سے 350-250 روپے امتحان فیس کے نام پر لے لیے گئے جب کہ ایکٹ کا پورا نام مفت اور لازمی تعلیم کا حق قانون ہے۔

اتنا ہی نہیں، ایک دن اَنش کو اس کے ایک ٹیچر نے کلاس میں تھپڑ مارا جب کہ قانون کی دفعہ 17 کے تحت بچے کو کسی بھی قسم کی جسمانی سزا نہیں دی جا سکتی۔ حد تو اس دن ہو گئی جب اَنش نے کلاس میں ٹوائلٹ کردیا اور اس کی ماں جمنا دیوی نشاد کو گھر سے بلا کر اس کا ٹوائلٹ صاف کرایا گیا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر فیس دے کر پڑھنے والے کسی بچے نے ٹوائلٹ کیا ہوتا تو کیا اس کے گھر سے بھی اس کی ماں کو صفائی کرنے کے لیے بلایا جاتا؟ ظاہر ہے کہ نشاد فیملی کی غریبی کے سبب اس کے ساتھ تفریق کی گئی اور اسے سب کے سامنے بے عزتی برداشت کرنی پڑی جب کہ حق تعلیم قانون کی دفعہ 17 کے تحت بچے کو ذہنی تکلیف نہیں دی جا سکتی۔

لکھنؤ کا ایک اسکول ’بلومنگ فلاور جونیر ہائی اسکول‘ بھی گزشتہ تعلیمی سیشن کا ریزلٹ دینے کے لیے فی طلبا 200 روپے طلب کر رہا ہے۔ گزشتہ سال تعلیم کے حق قانون کی دفعہ (ج) (1) 12 کے تحت اس اسکول میں محمد عاشق کی لڑکی مسکان اور لڑکے ریحان کا داخلہ درجہ کے جی اور 1 میں ہوا تھا۔ اسکول کے باہر سرپرستوں کا ایک دن مظاہرہ ہو جانے کے بعد اب اسکول پیسے تو نہیں مانگ رہا، لیکن ریزلٹ بھی نہیں دے رہا ہے۔

حالانکہ والمیکی برادری کے تین طلبا سنجے، منیش اور کمل کا داخلہ دفعہ (ج) (1) 12 کے تحت سیٹھ ایم آر جے پوریا اسکول میں تو نہیں ہوا، لیکن اسی گروپ کے اسکول ’نَو سریجن‘ میں سات سال کی پڑھائی کے بعد ان کو کم حاضری اور کم نمبر حاصل کرنے کے سبب نکالنے کی کوشش ہوئی اور یہ صلاح دی گئی کہ وہ کسی ہندی میڈیم اسکول میں نام لکھوا لیں جو طلبا کو ایکٹ کی دفعہ 16 کے تحت حاصل حق کی خلاف ورزی تھی۔ بات چیت کے بعد اسکول نے فی الحال تینوں بچوں کو واپس لے لیا ہے۔ کئی سرپرست اپنے بچوں کو انگریزی میڈیم سے ہی پڑھانا چاہتے ہیں۔ اتر پردیش کی بی جے پی حکومت جو ظاہری طور پر تو سنسکرت پریمی ہے، نے ابھی 5000 انگریزی میڈیم اسکول چلانے کا فیصلہ لیا ہے۔

لکھنؤ کے ہی لارڈ مہر اسکول میں گزشتہ سال شیوانشو اور شوبھم شرما کا داخلہ اس قانون کی دفعہ (ج) (1) 12 کے تحت لیا گیا تھا لیکن اس سال انھیں اسکول سے نکال دیا گیا جو قانون کی دفعہ 16 کی خلاف ورزی ہے۔ حالانکہ اخباروں میں اس خبر کے شائع ہونے کے بعد فی الحال اسکول نے بچوں کو واپس لے لیا ہے۔

تعلیم کا حق قانون کی دفعہ (ج) (1) 12 کے تحت داخلے کے حکم کے باوجود داخلے نہیں ہو پا رہے ہیں اور ایگزیکٹیو و جوڈیشیری کچھ نہیں کر پا رہی ہے۔ افسران کہتے ہیں کہ اس ایکٹ میں سزا کا انتظام نہیں ہے اس لیے وہ مجبور ہیں۔ اسکولوں کے منمانے و تاناشاہی سلوک اور نظام کی فعالیت میں کمی کے سبب یہ قانون لاوارث ہو گیا ہے جسے کوئی اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

نیوز کے ذریعہ:
https://www.qaumiawaz.com/political/right-to-education-act-the-reality-of-free-education-for-poor-children-private-schools-in-uttar-pradesh-violating-the-norms
Comparte este contenido:

Etiopía amplía número de instituciones de educación superior

Etiopía / 6 de mayo de 2018 / Autor: Redacción / Fuente: Prensa Latina

Etiopía incrementa hoy el número de instituciones de educación superior con la apertura de 11 nuevos centros, para un total de 44 en todo el país.
La presencia de universidades es un ingrediente importante en el desarrollo de una ciudad o una nación en general, refrieron fuentes oficiales.

De acuerdo con el jefe de Comunicaciones del Ministerio de Educación, Tadese Dejene, junto a la misión principal de enseñanza-aprendizaje e investigación y servicio comunitario, este tipo de entidades proporciona un gran potencial de desarrollo para las localidades, sobre todo mayores oportunidades financieras y de empleos.

Según Dejene, el Gobierno se auxilió del sector privado para lograr tal expansión y para garantizar un mantenimiento adecuado de las universidades, con asociaciones que incluyen servicio de comidas a los estudiantes, personal de limpieza para el campus y los dormitorios, refrigerios, papelería, seguridad, entre otros.

Fuente de la Noticia:
http://prensa-latina.cu/index.php?o=rn&id=174652&SEO=etiopia-amplia-numero-de-instituciones-de-educacion-superior
Fuente de la Imagen:
http://www.uaslp.mx/Comunicacion-Social/Paginas/Divulgacion/Gaceta/Notas/2017/Julio/170717/Investigadores-Etiopia.aspx
Comparte este contenido:

Colombia: Número de universitarios casi se duplicó en la última década

Colombia / 6 de mayo de 2018 / Autor: Redacción / Fuente: Portafolio

Los estudiantes de educación superior pasaron de 1,36 millones a 2,39 millones entre el 2007 y el 2016.

La educación superior en Colombia dio un salto cuantitativo importante en la última década, al pasar de una cobertura de 31,6% en el 2007 a 51,5% de los alumnos que salen del colegio en el 2016, según cifras del ministerio de este ramo. Esto quiere decir que en una década hubo una mejoría de 19 puntos porcentuales. En ese lapso pasaron de 1’362.509 a 2’394.434 alumnos.

Así mismo, del total de estudiantes matriculados en la última década, el 6% cursó un nivel técnico, 25% tecnológico, 63% universitario y el 5,8% restante hizo un posgrado (3,8% especialización, 1,8% maestría y 0,2% doctorado).

Vale la pena destacar que la formación en pregrado tuvo una variación positiva de 1,7 veces en ese lapso, con más de 900.000 dicentes nuevos incorporados al sistema, en tanto que la matrícula en posgrados creció 2,8 veces. Parte de ese logro, de acuerdo con la viceministra de Educación Superior, Natalia Ruiz, tiene que ver con el aumento del presupuesto estatal, pues entre el 2010 y el 2017 se destinaron a educación 212 billones de pesos, siendo una cifra histórica. En educación superior, el desembolso ha incrementado en un 79%, al pasar de $20,8 billones a $37,4 billones.

No obstante, reconoce que todavía toca trabajar más en reducir la brecha entre el campo y la ciudad, pues el 90% de la oferta universitaria se concentra en las cinco principales capitales: Bogotá, Medellín, Cali, Bucaramanga y Barranquilla.

“La educación superior tiene que servir para transformar el territorio” y vincularse con las actividades de las comunidades, dijo la Viceministra de Educación Superior.

Otro gran desafío, según añadió, es seguir mejorando en cuanto a calidad. El sistema Nacional de Información de Educación Superior (SNIES) muestra que de acuerdo con la información reportada por las mismas instituciones, existe un total de 12.193 programas de educación superior vigentes. De este total el 33% equivale a programas del nivel universitario, 31% a especializaciones, 14% maestrías, 13% programas tecnológicos, 7% programas técnico profesionales y 2% a doctorados.

De casi 2,4 millones de estudiantes en el 2016 (último dato consolidado disponible), el 53% corresponde a instituciones públicas y el resto a privadas; no obstante el número de instituciones existentes en ambos subsectores tiene una composición diferente, ya que entre las 288 que están activas predominan las no oficiales, en una relación de 72% a 28%.

El presupuesto del Gobierno para las universidades públicas en el 2017 fue de $3,6 billones: el 91% se fue en funcionamiento (con aumento del 11,7% con respecto al 2016) y 9% en inversión. En el 2018 la cifra se mantendría inmodificable según figura en el presupuesto general de la educación.

Si bien el mercado está pidiendo más carreras relacionadas con el desarrollo de tecnologías, la realidad es que, por lo menos en el grado universitario, siguen ‘mandando’ programas tradicionales: en el top 5 están derecho (132.497 matriculados), administración de empresas (127.454), contaduría pública (102.807), psicología (100.172) e ingeniería industrial (75.544).

 Y lo mismo ocurre entre las tecnológicas, donde las cinco primeras son tecnología en contabilidad y finanzas (36.588), tecnología en gestión administrativa (35.213), tecnología en gestión empresarial (32.059), tecnología en gestión del talento humano (20.305) y tecnología en análisis y desarrollo de sistemas de información (17.726).

Entre las técnicas, gastronomía se metió en el mismo escalafón, en el cuarto lugar, con 3.016 estudiantes, siendo primera la técnica en procesos administrativos (5.876), de segundo está la preparación para ser policía (4.256), tercera procesos contables (3.154) y quinta procesos empresariales.

Los doctorados más demandados son en ingeniería (529 estudiantes), derecho (221), doctorado interinstitucional en educación (204), filosofía (187) y educación (157).

LA ACREDICTACIÓN: FUENTE DE PRESTIGIO Y MÁS ALUMNOS

El Sistema de Aseguramiento de la Calidad en Colombia tiene dos tipos de evaluación: el registro calificado, que es obligatorio para todos los programas de educación superior, y la acreditación de alta calidad, que es voluntaria y procede tanto para programas como para Instituciones de educación superior.

Esta última en particular facilita el reconocimiento social, la visibilidad y el prestigio entre la comunidad académica nacional e internacional; por ende eso influye en que el centro educativo tenga mayor demanda.

En la actualidad en el país hay 49 instituciones de educación superior con acreditación de alta calidad. De estas, el 43% son de carácter oficial y el 57%, privadas. Además, se cuentan 1.211 programas con esa misma distinción, de los cuales el 13% corresponde a programas de posgrado y el 87% restante a programas de pregrado. Además, el 51% son ofertados por entidades públicas y el 49% restante, privadas.

Fuente de la Noticia:

http://www.portafolio.co/economia/numero-de-universitarios-casi-se-duplico-en-la-ultima-decada-516663

Comparte este contenido:

नेपाल: तुलसीपुर उपमहानगरको शिक्षा शाखामा तालाबन्दी

नेपाल / 6 मई, 2018 / लेखक: जन समाचार / स्रोत: जनता टेलीभिजन

दाङ । प्रमुख तीन बिद्यार्थी संगठनले तुलसीपुर उपमहानगरपालिकाको शिक्षा शाखामा तालाबन्दी गरेका छन् ।

उपमहानगर क्षेत्रभित्रका निजी तथा सरकारी विद्यालयले अभिभावकको ढाड सेक्नेगरी शिक्षण शुल्क असुल्दा शिक्षा शाखा मौन भएको भन्दै अनेरास्ववियु, अखिल क्रान्तिकारी र नेपाल विद्यार्थी संघका नेताहरुले संयुक्तरुपमा तालाबन्दी गरेका हुन् ।

विद्यालयहरुले मनोमानी तरिकाले गरेको शिक्षण शुल्क वृद्धी रोक्न पटकपटक ध्यानाकर्षण गराएपनि शिक्षा शाखाले वेवास्ता गरेपछि अनिश्चितकालीन तालाबन्दी गरिएको बिद्यार्थी नेताहरुले बताएका छन् ।

विद्यार्थी संगठनले तालाबन्दी गरेपछि तुलसीपुर उपमहानगरपालिकाको शिक्षा शाखाका सम्पूर्ण कामकाज ठप्प भएका छन् ।

समाचार स्रोत:

http://www.janatasamachar.com/2018/05/31991

Comparte este contenido:

“La universidad tiene que emprender una gran reforma”: Axel Didrikkson

México / 6 de mayo de 2018 / Autor: Mariana Otero / Fuente: La Voz

El académico mejicano asegura que debe ser productora de conocimiento y de investigación con innovación social. Dice que la oferta educativa de las casas de altos estudios latinoamericanas sigue siendo la misma de hace 50 años.

Reforma educativa, responsabilidad social, relocalización de recursos, investigación y organización de la vida universitaria. Estos son los desafíos más importantes que tienen las universidades en América latina, a criterio de Axel Didriksson Takayanagui, doctor en Economía, investigador la Universidad Nacional Autónoma de México (Unam) y miembro de la Academia Mexicana de Ciencias, entre otras cosas.

En su última visita a Córdoba, Didriksson aseguró que “hoy el conocimiento es el valor agregado más importante del desarrollo” e insistió en que esa es la prioridad de la educación superior en el siglo 21.

El reconocido académico mejicano, invitado por la Universidad Nacional de Córdoba, recibió el título de Visitante Distinguido de la UNC y brindó la conferencia “La autonomía universitaria y los desafíos de la Educación Superior”. En una entrevista con La Voz, en el patio del Rectorado Histórico de la UNC, Didriksson enumeró las claves para sostener y mejorar la calidad de las universidades en la región.

Reforma educativa. “Tenemos que emprender una gran reforma en lo educativo. Deben cambiar radicalmente los planes de estudio, la currícula, la oferta educativa, la formación de profesores e investigadores y la forma en la que se organiza el conocimiento. Seguimos teniendo instituciones públicas y privadas que, en su gran mayoría, tienen una oferta educativa tradicional de 50, 60 o más años”, indicó Didriksson. El académico aseguró que la gestión del conocimiento es lo que más ha cambiado en el mundo en los últimos años y que las universidades latinoamericanas tienen brechas de hasta 40 años frente a otras del mundo, que desde hace tiempo dejaron de trabajar como hace medio siglo.“Acabo de hacer un estudio regional comparado, estuve en 15 países, en 57 ciudades y 57 universidades distintas viendo los cambios que estaban ocurriendo en Europa, Asia y América latina y las estructuras de gestión del conocimiento son distintas. Tenemos que poner el énfasis que de aquí al 2030 –que es cuando hay que evaluar las metas del milenio y las metas programáticas de medio siglo propuestas por Naciones Unidas– tenemos que emprender una gran reforma educativa en los aprendizajes, en los estudiantes, en los profesores, en la currícula, en los planes de estudio”, subrayó.

Y agregó: “Las universidades que nos llevan 40 años están rompiendo con las disciplinas. Hoy tienen estructuras inter y transdisciplinares, están con proyectos que articulan docencia, aprendizaje, investigación y conocimiento, procesos que vinculan la producción y el conocimiento con la innovación”. En este sentido, Didriksson remarcó que es necesario apuntar a la innovación social, a una investigación que responda a requerimientos de la sociedad porque, insistió, hoy el conocimiento es el valor agregado más importante del desarrollo.

“Si no producimos conocimiento, lo que hacemos es repetirlo y eso no sirve a la sociedad. ¿Qué chiste tiene que un maestro siga dándole como materia a sus alumnos lo que él leyó cuando se formó? Lo que más se ha revolucionado es el conocimiento, los aprendizajes. Esta es una prioridad”, marcó.

Responsabilidad social. Didriksson considera imperiosa la articulación de las universidades con los requerimientos y las necesidades de la sociedad.

Recursos. El académico mejicano sostiene que es necesario analizar la relocalización de los recursos del Estado en las universidades.

Investigación. “Las universidades deben ser productoras de conocimiento, de investigación con innovación social. Si no lo hacemos, vamos a seguir repitiendo y el que repite, se estanca. Esto significa plantearnos ir a la cabeza, adoptar, aprender del conocimiento humano. No de los conocimientos de los países desarrollados sino de los conocimientos que producimos desde el plano de la humanidad”, refiere Didriksson.

Gestión y organización de la vida universitaria. “Tenemos demasiadas burocracias. Ha crecido el ámbito de acción y de control debido a los esquemas de evaluación y de acreditación. Nos hemos excedido en poner proyectos de evaluación y de acreditación y esto complica más la burocracia”, asegura el investigador.

Un académico destacado

Axel Didriksson Takayanagui. Investigador titular de la Universidad Nacional Autónoma de México (Unam), adscripto al Instituto de Investigaciones sobre la Universidad y la Educación. Doctor en Economía, maestro en Estudios Latinoamericanos y licenciado en Sociología. Miembro de la Academia Mexicana de Ciencias. Fue secretario de Educación de la Ciudad de México (2006-2009). Autor de más de 25 libros.

Fuente de la Noticia:

http://www.lavoz.com.ar/ciudadanos/la-universidad-tiene-que-emprender-una-gran-reforma

Comparte este contenido:

Paraguay: Desarrollan taller para formación de evaluadores en educación

Paraguay / 6 de mayo de 2018 / Autor: Redacción / Fuente: La Nación

Un taller de entrenamiento y capacitación para formadores de evaluadores inicia este miércoles en Ypacarai, bajo la organización de la Unión Europea, el Ministerio de Educación y Ciencias (MEC) y la Organización de Estados Iberoamericanos (OEI), en el marco de la implementación del “Programa de apoyo a la política del sector educación de Paraguay”.

El taller de entrenamiento y capacitación tiene como propósito instruir a profesionales de la educación para ser formadores de evaluadores de los miembros de la red de evaluadores del Paraguay.

Es para seguimiento y monitoreo de las prácticas pedagógicas en el marco de la implementación del sistema de acompañamiento pedagógico y la ejecución de planes de desarrollo de planes de mejora de docentes evaluados en su desempeño profesional.

Se espera como resultado de este encuentro, desarrollar las capacidades relacionadas a la descripción etnográfica para las observaciones de clases y análisis documental para la revisión de la calidad de las planificaciones que son informaciones concretas del actuar en aula de cada docente evaluado.

El taller se desarrollará del 2 al 10 de mayo y estará a cargo del experto internacional en la materia, Héctor Valdés Veloz, de acuerdo a un informe de la organización. El acto oficial de lanzamiento se llevará a cabo este miércoles en la casa de retiro Tuparendá, situada en el kilómetro 35,5- Ypacaraí.

La actividad está dirigida a un total de 100 participantes conformados por miembros de redes de evaluadores departamentales (docentes, técnicos, supervisores educativos y directivos de los 17 departamentos y más la capital del país) y referentes de sindicatos; así como directivos y técnicos del MEC central.

Fuente de la Noticia:

https://www.lanacion.com.py/pais/2018/05/02/desarrollan-taller-para-formacion-de-evaluadores-en-educacion/

Comparte este contenido:

Shqipëri: Cilësia në arsim, reforma në mësuesi dhe rritje rrogash

Shqipëria / 6 Maj 2018 / Autori: Stafi redaktues / Burimi: ATA

Reforma në arsim është prioritet i qeverisë për këtë mandatë qeverisës, pasi ka në fokus ndërtimin e tre shkollave të reja në Tiranë, rritje pagash për mësuesit, rritjen e mesatares së pranimit të studentëve të mësuesisë duke e çuar në notën shtatë, ndërsa për ata me notë mesatare nëntë do marrin bursë nga shteti.

Qeveria ka startuar sot në Tiranë, nismën e fushatës së llogaridhënies publike për ç’ka është bërë në gjashtë muajt e parë të qeverisjes dhe nismat e reja që do të ndërmerren në vazhdimësi.

Zëvendësministrja e Arsimit, Sportit dhe Rinisë, Besa Shahini prezantoi projektin e Ministrisë së Arsimit për reformën në mësuesi.

Në fjalën e saj, Shahini theksoi se mesatarja e pranimit në degën e mësuesisë do të jetë shtatë, ndërsa për ata që kanë mesataren nëntë do të ketë bursë nga shteti dhe nëse ruaj mesataren gjatë viteve të studimit nuk do paguajnë tarifën e studimi.

“Projekti kryesorë është reforma në mësuesi, dhe studentët më të mirë mund të bëhen mësues pasi këtë vit norma e pranimit të studentëve të mësuesisë do të jetë shtatë. Ne duam që të vijnë më të mire. Prandaj kemi vendosur sivjet që nota mesatare për të gjithë studentët e mësuesisë  të jetë minimumi shtatë, por kjo siguron se do të këtë cilësi për të gjithë studentët e mësuesisë. Ne duam që të vijnë më të mirë dhe notën mesatare mbi nëntë do kenë bursë nga shteti dhe nëse do ta mbajnë notën mesatare të kryejnë studimet pa pagesë”, tha Shahini.

Në vijim, zv.ministrja tha se “kur të përfundojnë studimet pas 3 vitesh apo pas pesë vitesh, kanë një sistem portali mësues për Shqipërinë që siguron që më të mirët të jenë mësues në sistem. Këto vitet e fundit ka funksionuar portali dhe do kemi mësues më të mirë. Deri në fund të këtij mandati  do të rriten rrogat e mësuesit do të jenë më të mira dhe ftoj maturantët të bëhen pjesë e mësuesisë”.

“Do ndërtojmë tre shkolla në qarkun e Tiranës, do rindërtojmë një sallë koncertesh te shkolla “Jordan Misja”. Do kemi libra falas për klasat, 1-4 dhe libra falas për të gjithë kategoritë e shtresave sociale. 2/3 e klasave nga klasa  1-9 do kenë libra falas.Të gjitha këto projekte do rregullojnë cilësinë e arsimit”, tha Shahini.

Burimi i lajmeve:

https://ata.gov.al/2018/05/02/cilesia-ne-arsim-reforma-ne-mesuesi-dhe-rritje-rrogash/

Comparte este contenido:
Page 2612 of 6193
1 2.610 2.611 2.612 2.613 2.614 6.193
OtrasVocesenEducacion.org