Page 288 of 773
1 286 287 288 289 290 773

یو پی : پرائیویٹ اسکول ’تعلیم کا حق‘ قانون کی کر رہے ہیں خلاف ورزی: بھارت

بھارت / مئی 6، 2018 / مصنف: سندیپ پانڈے

تعلیم کا حق ایکٹ کے تحت غریب اور کمزور طبقہ کے بچوں کو داخلہ نہیں دینے والے اسکولوں کی ہمت اتنی بڑھ گئی ہے کہ انھوں نے اپنی تنظیم بنا کر سپریم کورٹ میں اس قانون کو چیلنج پیش کر دیا ہے۔

اتر پردیش میں تعلیم کا حق ایکٹ 2009 نافذ ہوئے تقریباً چار سال ہو گئے ہیں۔ اس ایکٹ کے تحت غیر امداد یافتہ یا پرائیویٹ اسکولوں میں درجہ 1 سے 8 تک میں غریب اور کمزور طبقہ کے کم از کم 25 فیصد بچوں کو مفت داخلہ کا انتظام ہے۔ اس انتظام کے تحت پورے اتر پردیش میں سال 16-2015 میں 3135، سال 17-2016 میں 17136 او رسال 18-2017 میں 27662 داخلے ہوئے۔ لیکن بیسک ایجوکیشنل افسر یا ضلع مجسٹریٹ کے احکام کے باوجود لکھنؤ کے سٹی مانٹیسری اسکول، نویُگ ریڈینس، سٹی انٹرنیشنل، سینٹ میری انٹرمیڈیٹ کالج، لکھنؤ ماڈل پبلک اسکول، کانپور کےو یریندر سوروپ و چنٹل پبلک اسکول اور علی گڑھ کے بلو برڈ اسکول اور نہرو چلڈرنس جونیر ہائی اسکول جیسے ریاست کے کئی بڑے اسکول کمزور طبقہ کے ایک بھی بچے کا داخلہ نہیں لے رہے ہیں۔

حق تعلیم ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والے ایسے اسکولوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہونے کے سبب ان کی ہمت اتنی بڑھ گئی ہے کہ انھوں نے اپنی تنظیم بنا کر سپریم کورٹ میں اس قانون کو ہی چیلنج کر دیا ہے۔ تنظیم نے دہلی کے رام لیلا میدان میں ایک ریلی منعقد کر کے قانون کو خارج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کی دلیل ہے کہ حکومت کے ذریعہ اتر پردیش میں دی جانے والی 450 روپے فی ماہ کی فیس بہت کم ہے اور اسے طے کرنے کی کوئی مدلل بنیاد نہیں ہے۔ لیکن مجموعی طور پر سچائی یہ ہے کہ پرائیویٹ اسکولوں کو یہ بات بالکل برداشت نہیں ہے کہ ان کے ذریعہ تاناشاہی طریقے سے چلائے جا رہے اسکولوں میں تعلیم کے حق قانون کے ذریعہ کسی قسم کی سرکاری مداخلت ہو۔

پرائیویٹ اسکول اخلاقی طور پر بے حد کمزور بنیاد پر کھڑے ہیں۔ ان کے ذریعے لی جانے والی فیس کا کوئی مدلل بنیاد نہیں ہے۔ منمانی فیس کے علاوہ وہ مختلف طریقوں سے دوسری کمائی بھی کرتے ہیں، مثلاً کاپی-کتاب اور ڈریس کی خرید کے لیے اپنی دکانیں طے کرنا۔

حق تعلیم قانون کے تحت آن لائن درخواست کے انتظام کا یہ دوسرا سال ہے۔ لیکن اب تک 82388 میں سے صرف 20427 اسکولوں کو ہی ویب سائٹ پر دکھایا گیا ہے کیونکہ بقیہ اسکولوں کی اس میں شمولیت کا عمل ابھی تک پورا نہیں ہوا ہے۔ ایسے میں جو سرپرست اپنے بچوں کا اس قانون کے تحت داخلہ کرانا چاہتے ہیں انھیں 75 فیصد اسکول تو دستیاب ہی نہیں ہیں۔

لکھنؤ میں آر ڈی میموریل انٹرمیڈیٹ کالج اور سدھارتھ گلوبل اسکول جیسے اسکول، جن کے یہاں گزشتہ سال مفت تعلیم کے انتظام کے تحت داخلے ہوئے تھے، اس بار ان کے نام ویب سائٹ سے غائب ہیں۔ وارانسی کے سب سے بڑے اسکول ’سن بیم‘ کا نام بھی غائب ہے۔ وارانسی کے کچھ وارڈوں کے نام ہی ویب سائٹ پر نہیں ہیں۔ یعنی ان وارڈوں میں رہنے والے سرپرستوں کے بچے تعلیم کا حق ایکٹ کی دفعہ (ج) (1)12 کا فائدہ اٹھانے سے محروم ہو گئے ہیں، کیونکہ بچے کا داخلہ پڑوس کے ہی کسی اسکول میں کرایا جا سکتا ہے اور اس سال اتر پردیش حکومت نے پڑوس کو وارڈ کی شکل میں ہی متعارف کیا ہے۔ پہلے مرحلہ کی لاٹری میں ریاست کے 75 میں سے صرف 48 اضلاع نے ہی ان بچوں کی فہرست نکالی جو اس قانون کے تحت داخلے کے لیے منتخب کیے گئے تھے۔ وارانسی میں پہلے مرحلہ میں 2597 درخواستوں کو جانچ نہ ہونے کے سبب چھوڑ دیا گیا۔ یہ واضح کرتا ہے کہ حکومت بغیر پوری تیاری کے آن لائن داخلے کے لیے فارم بھروا رہی ہے۔ ایسے میں حکومت کے ذریعہ قوت ارادی کی عدم موجودگی میں صرف خانہ پری کرنے کا کیا مطلب ہے؟

جن اسکولوں کو نشان زد کیا گیا ہے وہ بھی ٹھیک سے نہیں ہوا۔ لکھنؤ کے راجہ بازار چوک کی باشندہ روبی بانو نے جب اپنے بیٹے سید التمش علی کا آن لائن فارم بھرا تو انھیں فاطمہ گرلس جونیر ہائی اسکول الاٹ ہوا جو ویب سائٹ پر تو ان کے وارڈ میں دکھایا جا رہا ہے لیکن اصل میں مہانگر وارڈ میں ہے جو ان کے پڑوس میں نہیں ہے، اور یہ ایکٹ کے مطابق لازمی ہے۔ ان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ ایک دوسرا بچہ گود میں ہوتے ہوئے وہ پہلے بچے کو اتنی دور پڑھنے بھیجیں۔

داخلے کے لیے بیسک ایجوکیشن افسر کے دفتر کے ذریعہ جو لاٹری نکالی جا رہی ہے اس پر بھی سوال کھڑے ہوتے ہیں۔ جب ایکٹ کے مطابق کم از کم 25 فیصد بچوں کے داخلے کی بات ہے اور حکومت جب فیس کی ادائیگی کر رہی ہے تو اسکولوں کو 25 فیصد سے زیادہ بچوں کا بھی داخلہ لینا چاہیے۔ اگر اسکول میں کل بچوں کی متعینہ تعداد سے زیادہ درخواستیں آ جاتی ہیں تو پڑوس کے سب سے نزدیکی اسکول میں داخلہ ہونا چاہیے۔ لیکن اتنے زیادہ داخلے ابھی تک کسی اسکول میں نہیں ہوئے ہیں۔

گزشتہ سالوں میں جن بچوں کا داخلہ حق تعلیم ایکٹ کی دفعہ (ج) (1) 12 کے تحت ہو گیا تھا، ان کے لیے بھی راہ آسان نہیں ہے۔ اَنش کمار کا داخلہ لکھنؤ کے یونیورسل مانٹیسری اسکول اور گرلس انٹر کالج میں دو سال پہلے ہوا تھا۔ گزشتہ سال نرسری درجہ میں اس کے 31.93 فیصد نمبر آئے، لیکن اسے پرموشن دے دیا گیا۔ اس سال کنڈرگارٹن میں اس کے 17.77 فیصد نمبر آئے اور اسے ناکام قرار دے کر اسکول سے نکال دیا گیا ہے۔ جب کہ ایکٹ کی دفعہ 16 کے تحت بچے کو کسی کلاس میں روکا نہیں جا سکتا اور نہ ہی نکالا جا سکتا ہے۔ 18-2017 میں تین بار اس کے والدین سے 350-250 روپے امتحان فیس کے نام پر لے لیے گئے جب کہ ایکٹ کا پورا نام مفت اور لازمی تعلیم کا حق قانون ہے۔

اتنا ہی نہیں، ایک دن اَنش کو اس کے ایک ٹیچر نے کلاس میں تھپڑ مارا جب کہ قانون کی دفعہ 17 کے تحت بچے کو کسی بھی قسم کی جسمانی سزا نہیں دی جا سکتی۔ حد تو اس دن ہو گئی جب اَنش نے کلاس میں ٹوائلٹ کردیا اور اس کی ماں جمنا دیوی نشاد کو گھر سے بلا کر اس کا ٹوائلٹ صاف کرایا گیا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر فیس دے کر پڑھنے والے کسی بچے نے ٹوائلٹ کیا ہوتا تو کیا اس کے گھر سے بھی اس کی ماں کو صفائی کرنے کے لیے بلایا جاتا؟ ظاہر ہے کہ نشاد فیملی کی غریبی کے سبب اس کے ساتھ تفریق کی گئی اور اسے سب کے سامنے بے عزتی برداشت کرنی پڑی جب کہ حق تعلیم قانون کی دفعہ 17 کے تحت بچے کو ذہنی تکلیف نہیں دی جا سکتی۔

لکھنؤ کا ایک اسکول ’بلومنگ فلاور جونیر ہائی اسکول‘ بھی گزشتہ تعلیمی سیشن کا ریزلٹ دینے کے لیے فی طلبا 200 روپے طلب کر رہا ہے۔ گزشتہ سال تعلیم کے حق قانون کی دفعہ (ج) (1) 12 کے تحت اس اسکول میں محمد عاشق کی لڑکی مسکان اور لڑکے ریحان کا داخلہ درجہ کے جی اور 1 میں ہوا تھا۔ اسکول کے باہر سرپرستوں کا ایک دن مظاہرہ ہو جانے کے بعد اب اسکول پیسے تو نہیں مانگ رہا، لیکن ریزلٹ بھی نہیں دے رہا ہے۔

حالانکہ والمیکی برادری کے تین طلبا سنجے، منیش اور کمل کا داخلہ دفعہ (ج) (1) 12 کے تحت سیٹھ ایم آر جے پوریا اسکول میں تو نہیں ہوا، لیکن اسی گروپ کے اسکول ’نَو سریجن‘ میں سات سال کی پڑھائی کے بعد ان کو کم حاضری اور کم نمبر حاصل کرنے کے سبب نکالنے کی کوشش ہوئی اور یہ صلاح دی گئی کہ وہ کسی ہندی میڈیم اسکول میں نام لکھوا لیں جو طلبا کو ایکٹ کی دفعہ 16 کے تحت حاصل حق کی خلاف ورزی تھی۔ بات چیت کے بعد اسکول نے فی الحال تینوں بچوں کو واپس لے لیا ہے۔ کئی سرپرست اپنے بچوں کو انگریزی میڈیم سے ہی پڑھانا چاہتے ہیں۔ اتر پردیش کی بی جے پی حکومت جو ظاہری طور پر تو سنسکرت پریمی ہے، نے ابھی 5000 انگریزی میڈیم اسکول چلانے کا فیصلہ لیا ہے۔

لکھنؤ کے ہی لارڈ مہر اسکول میں گزشتہ سال شیوانشو اور شوبھم شرما کا داخلہ اس قانون کی دفعہ (ج) (1) 12 کے تحت لیا گیا تھا لیکن اس سال انھیں اسکول سے نکال دیا گیا جو قانون کی دفعہ 16 کی خلاف ورزی ہے۔ حالانکہ اخباروں میں اس خبر کے شائع ہونے کے بعد فی الحال اسکول نے بچوں کو واپس لے لیا ہے۔

تعلیم کا حق قانون کی دفعہ (ج) (1) 12 کے تحت داخلے کے حکم کے باوجود داخلے نہیں ہو پا رہے ہیں اور ایگزیکٹیو و جوڈیشیری کچھ نہیں کر پا رہی ہے۔ افسران کہتے ہیں کہ اس ایکٹ میں سزا کا انتظام نہیں ہے اس لیے وہ مجبور ہیں۔ اسکولوں کے منمانے و تاناشاہی سلوک اور نظام کی فعالیت میں کمی کے سبب یہ قانون لاوارث ہو گیا ہے جسے کوئی اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

نیوز کے ذریعہ:
https://www.qaumiawaz.com/political/right-to-education-act-the-reality-of-free-education-for-poor-children-private-schools-in-uttar-pradesh-violating-the-norms
Comparte este contenido:

नेपाल: तुलसीपुर उपमहानगरको शिक्षा शाखामा तालाबन्दी

नेपाल / 6 मई, 2018 / लेखक: जन समाचार / स्रोत: जनता टेलीभिजन

दाङ । प्रमुख तीन बिद्यार्थी संगठनले तुलसीपुर उपमहानगरपालिकाको शिक्षा शाखामा तालाबन्दी गरेका छन् ।

उपमहानगर क्षेत्रभित्रका निजी तथा सरकारी विद्यालयले अभिभावकको ढाड सेक्नेगरी शिक्षण शुल्क असुल्दा शिक्षा शाखा मौन भएको भन्दै अनेरास्ववियु, अखिल क्रान्तिकारी र नेपाल विद्यार्थी संघका नेताहरुले संयुक्तरुपमा तालाबन्दी गरेका हुन् ।

विद्यालयहरुले मनोमानी तरिकाले गरेको शिक्षण शुल्क वृद्धी रोक्न पटकपटक ध्यानाकर्षण गराएपनि शिक्षा शाखाले वेवास्ता गरेपछि अनिश्चितकालीन तालाबन्दी गरिएको बिद्यार्थी नेताहरुले बताएका छन् ।

विद्यार्थी संगठनले तालाबन्दी गरेपछि तुलसीपुर उपमहानगरपालिकाको शिक्षा शाखाका सम्पूर्ण कामकाज ठप्प भएका छन् ।

समाचार स्रोत:

http://www.janatasamachar.com/2018/05/31991

Comparte este contenido:

ભારત: શિક્ષણ વિભાગનો સપાટો, શાળાઓને ઓડીટ કરવાનું ફરમાન

ભારત / 6 મે, 2018 / લેખક: સંપાદકીય સ્ટાફ / સોર્સ: વીએટીવી ન્યૂઝ

ગાંધીનગરઃ ખાતાકીય હિસાબોમાં ધાંધીયા કરતી અમદાવાદની શાળાઓ સામે શિક્ષણ વિભાગે લાલ આંખ કરી છે. અમદાવાદ શહેરની 104 શાળાઓનું વર્ષ 20014-15થી ખાતાકીય ઓડીટ બાકી છે જેને લઈને આગામી 11 દિવસમાં ઓડીટ કરવાના આદેશ આપવામાં આવ્યાં છે.

શિક્ષણ વિભાગના આદેશ બાદ DEOએ પરિપત્ર જાહેર કરીને આદેશ કર્યો છે કે, જે શાળાએ ખાતાકીય ઓડીટ નથી કર્યું તે 11 મેં પહેલા આડીટ કરાવે નહીતર ગ્રાન્ટ અટકાવવામાં આવશે. મહત્વનું છે કે, શહેરની કેટલીક શાળાઓએ વર્ષ 2014 પહેલાથી ઓડીટ કર્યા નથી.

મહત્વની વાત છે કે અમદાવાદની શાળાઓનાં ખાતાકીય હિસાબોમાં ધાંધીયા જોવાં મળ્યાં છે. ત્યારે શહેરની 104 શાળાઓના 2014-15થી ખાતાકીય ઓડિટ બાકી છે.
જેને લઇને શાળાઓનાં હિસાબી ઓડિટને લઈને તંત્રએ કાર્યવાહી શરૂ કરી છે.

શાળાઓને 11 દિવસમાં ઓડિટ કરવાનાં આદેશ આપ્યાં છે. કેટલીક શાળાઓએ 2014 અગાઉથી એક પણ હિસાબીય ઓડિટ નથી કર્યા. દરેક શાળાને નિશ્ચિત તારીખે ઓડિટ કરાવવા આદેશ અપાયાં છે. 1 મેંથી 11 મે સુધી ઓડિટ કામગીરી પૂરી કરવાનાં આદેશ આપ્યાં છે.

ઓડિટ ન કરે તેવી શાળાઓને ગ્રાન્ટ ન આપવા સુચનો આપવામાં આવ્યાં છે. ખાતાકીય ઓડિટ માટે વડી કચેરી દ્વારા કાર્યક્રમનું આયોજન કરવામાં આવશે. રાયખડ ગર્લ્સ સ્કૂલ ખાતે અધિકારીઓની હાજરીમાં કામગીરી થશે.

સેન્ટ ઝેવિયર્સ લોયલા, GLS કેમ્પસની N.R હાઈસ્કૂલ, લીટલ ફ્લાવર, ગૂજરાત વિદ્યાપીઠનાં વિનયમંદિરનું ઓડીટ બાકી છે. જેથી શિક્ષણ વિભાગ દ્વારા શાળાઓને ઓડિટ માટે હવે છેલ્લી તક આપવામાં આવી છે.

સમાચારોનો સ્રોત:

https://www.vtvgujarati.com/news-details/education-department-s-mandate-to-audit-schools

Comparte este contenido:

Los niños de Siria

Por: Leoncio Durán Garibay

“Los árboles y pájaros más bonitos que yo jamás haya visto, estaban cerca de mi casa. Hoy los árboles están quemados y los pájaros hambrientos, porque no hay nadie que los alimente.”  Con esta frase en forma de metáfora, uno de los 2.5 millones de niños sirios, que han huido de su país y que hoy viven en calidad de refugiados, intenta explicar lo que ahí sucede y en su desafortunada realidad. Además otros 6 millones  de niños viven en calidad de refugiados dentro de su mismo país, obligados a huir de su hogar, de su ciudad. El 85% de esos niños  están en condiciones de extrema  pobreza.

La desnutrición es un cáncer que afecta a muchos de estos niños, la situación es apremiante, miles de ellos podrían morir de hambre, porque en el mejor de los casos, un pan y un vaso de agua no son suficiente para mantenerlos sanos y con vida. Los extremos son por demás conmovedores, cundo una madre de familia se ve obligada a hervir agua, para engañar a sus hijos, haciéndoles pensar que ya pronto tendrán alimento y así con éste engaño, se queden dormidos y no sigan pidiendo comida.

   Pero la muerte es una fiera salvaje que acecha en todos los rincones del país, no sólo por desnutrición mueren los niños, también por las balas y  bombas que no respetan; ni escuelas, ni hospitales, menos hogares o refugios. Según datos de la UNICEF, tan sólo en los meses de enero y febrero del presente año, han muerto en Siria más de 1,000 niños, lo que representa que cada hora y media  muere un niño, ¡escalofriante verdad!  Las imágenes son por demás dramáticas, cuando un padre intenta salvar la vida de su hijo que está bañado en sangre, corre con él en sus brazos,  para  llegar a un hospital que quizá ya no exista. Otra imagen es la de esos niños con síntomas de asfixia,  víctimas de un atentado con bombas químicas.

   El derecho a vivir  una infancia feliz, es un anhelo difícil de alcanzar para estos niños; la educación se ha convertido en lujo, no hay escuelas,   son obligados a  trabajar para ayudar o para mantener la familia. La salud es un derecho que no existe, no hay medicamentos, tampoco hospitales.  Con frecuencia son violentados sexualmente, reclutados y obligados a formar parte del ejército o de los grupos terroristas, y qué decir de aquellos niños que han quedado mutilados de su cuerpo y mutilados en sus sueños.

Por ello, me permito escribir algunas frases, tomadas de niños que han sido entrevistados, en diversos reportajes, trasmitidos en varios  medios de comunicación del mundo, y que  pueden considerarse como una petición de esos niños, que hoy no tienen nada que festejar, pero sí mucho que anhelar, mucho que preguntar y quizá mucho que reclamar.

–Es como un mal sueño, no puedo creer lo que está pasando.

–Yo sólo quiero volver a mi país y a mi escuela, con mis amigos.

–Sólo pido que la guerra termine, ¿dónde está la ayuda de los demás países?

–Somos niños de Siria, miren lo que nos está pasando, estamos siendo masacrados, mutilados, desahuciados y el miedo nos domina.

–¡¿Qué hemos hecho para que nos asesinen?

–Ustedes sólo detengan la guerra y nosotros no vendremos más a sus países, sólo detengan la guerra, ¡sólo eso!

–Un misil cayó justo en mi casa, mis abuelos murieron y 40 niños más, sacaron a mi abuela en 4 trozos.

–Sólo quiero entender una cosa, ¿por qué nos están bombardeando? Por qué ellos pueden, ¿sólo por eso?

–Me han dejado sin pierna y sin brazo, nos han matado, ¿Quién les dio permiso para eso?

— “Por favor ayuden a los sirios”.

–¡Hola Sr. Trump!, ¿alguna vez ha estado sin comer y sin beber, durante 24 horas? Piense en los refugiados y en los niños de Siria.

–Le digo al presidente Bashar que nos ha matado, que puede matarnos de hambre, puede matarnos de sed, puede encarcelarnos, puede torturarnos, puede dejarnos huérfanos,  pero no va a poder cambiar lo que sentimos en nuestros corazones.

–Y estos países que apoyan y mandan armas, ¿Qué piensan?, ¿Qué os pasa? ¡Nos están matando!

–Los sueños de nuestra infancia permanecen  en nuestro interior y aún no han crecido, los han mutilado también, ¿con qué derecho?

Fuente: https://www.elsoldeparral.com.mx/columna/los-ninos-de-siria

Comparte este contenido:

China: Xi pide desarrollar universidades de clase mundial con peculiaridades chinas

China/05 de Mayo de 2018/Spanish

El presidente de China, Xi Jinping, pidió hoy miércoles desarrollar universidades de clase mundial con peculiaridades chinas para formar a gente bien preparada que se una a la causa socialista.

Xi, también secretario general del Comité Central del Partido Comunista de China y presidente de la Comisión Militar Central, hizo la declaración durante una visita de inspección a la Universidad de Peking, antes del Día de la Juventud de China y del 120° aniversario de la universidad, que se conmemoran el mismo día, el 4 de mayo.

En nombre del Comité Central del PCCh, el presidente transmitió saludos festivos al personal y los estudiantes de la Universidad de Peking, a los egresados en el país y el extranjero, a los jóvenes de todos los grupos étnicos y a los jóvenes trabajadores de China.

Después de recibir un informe sobre los más recientes acontecimientos en la universidad, Xi, acompañado por Wang Huning, miembro del Comité Permanente del Buró Político del Comité Central del PCCh y del secretariado del Comité Central del PCCh, reconoció que la Universidad de Peking ha mejorado notablemente su capacidad e influencia académicas con un claro plan de desarrollo desde el XVIII Congreso Nacional del PCCh.

Luego de señalar que el desarrollo de las universidades y de la nación se complementan entre sí, Xi destacó que es necesario realizar más esfuerzos para alimentar las universidades de clase mundial, pero sobre todo con peculiaridades chinas.

Tras enterarse de los logros más recientes de la universidad en investigación en ciencia e ingeniería, Xi dijo que la innovación es el motor más poderoso del desarrollo y el elemento más esencial de la fuerza nacional del país y de su competitividad fundamental.

El presidente dijo que las universidades y su personal académico, como parte clave del sistema de innovación del país, deben ampliar la integración entre las diferentes disciplinas, ofrecer más apoyo a los científicos y la investigación interdisciplinarios en áreas de vanguardia y cultivar más científicos de primer nivel y equipos de investigación de clase mundial.

La Universidad de Peking es la cuna desde la cual el marxismo empezó a extenderse en China. En años recientes estableció la primera escuela de marxismo del país y en enero creó un instituto de investigación sobre el pensamiento de Xi Jinping sobre el socialismo con peculiaridades chinas para la nueva época.

En la escuela de marxismo, Xi asistió a una exposición y recibió un informe sobre la investigación y la enseñanza del marxismo y el pensamiento sobre el socialismo con peculiaridades chinas para la nueva época.

También dijo que una escuela de marxismo de una universidad debe seguir una orientación política clara y principios de enseñanza resumidos como «tomar el marxismo como apellido y hablar sobre marxismo».

Xi dijo que el marxismo debe consolidarse como la ideología guía y promoverse en los campus, los salones de clases y entre los estudiantes.

Más tarde se unió a un grupo de estudiantes chinos y extranjeros para discutir temas relacionados con la interpretación de la «nueva época».

«Usted es un firme marxista. ¿Hay algunos buenos métodos que usted utilice para estudiar el marxismo?» preguntaron los estudiantes.

Xi compartió su experiencia. También dijo a los estudiantes extranjeros que para entender a China deben entender la historia, la cultura, el pensamiento y las etapas de desarrollo chinos. Sobre todo deben entender el marxismo en la China contemporánea.

Xi dijo que la Universidad de Peking fue la primera de China en diseminar el marxismo y en realizar investigaciones al respecto, con lo que desempeñó un papel clave en la diseminación del marxismo en China y en la fundación del PCCh.

En el año 2018, dijo, se celebra el 200 aniversario del natalicio de Karl Marx y el 170 aniversario de la publicación del Manifiesto Comunista.

«Nuestra mejor conmemoración es hacer un buen trabajo en el estudio, promoción e implementación del espíritu del XIX Congreso Nacional del PCCh y del pensamiento sobre el socialismo con peculiaridades chinas para la nueva época que encarna el marxismo en la China contemporánea», dijo Xi.

El presidente alentó la realización de estudios serios sobre el socialismo con peculiaridades chinas en relación con los cambios en el Partido, el país y el mundo con el fin de obtener resultados de investigación más influyentes y convincentes.

Al final de la inspección, Xi mencionó el trabajo en áreas fundamentales como prioridad para construir universidades de clase mundial con peculiaridades chinas.

Se debe defender el rumbo político correcto, dijo Xi, quien exhortó a realizar esfuerzos persistentes para alentar y promover los valores socialistas fundamentales y alentó al personal y los estudiantes universitarios a tener fe en estos valores, a promoverlos de manera activa y a practicarlos.

La confianza en el camino, la teoría, el sistema y la cultura del socialismo con características chinas debe ayudarnos a construir la confianza en el desarrollo de universidades de clase mundial con peculiaridades chinas, dijo Xi.

Xi también destacó los esfuerzos por capacitar a maestros competentes y por establecer un sistema para cultivar talentos.

El liderazgo del Partido debe defenderse. Se deben entrenar muchos científicos y profesionales tecnológicos, científicos e ingenieros jóvenes y equipos innovadores de nivel mundial. Lo que se busca son avances importantes en la investigación básica de vanguardia e innovaciones originales, dijo Xi.

Xi exhortó a los jóvenes a ser leales al país y al pueblo, a conocer la historia de la nación, a heredar la cultura china, a tener orgullo nacional y confianza cultural y a vincular estrechamente sus ideales con el futuro de la patria.

Fuente: http://spanish.xinhuanet.com/2018-05/02/c_137151666.htm

Comparte este contenido:

A medida que cae el financiamiento, China emerge como socio clave de la investigación

Asia/China/universityworldnews

Con la disminución de los fondos de investigación en Japón y los enormes aumentos anuales en el presupuesto de investigación de China en los últimos años, China está emergiendo rápidamente como un socio para la colaboración de investigación científica japonesa, persiguiendo su interés en aprovechar las fortalezas de Japón en investigación básica.

Con las universidades japonesas que buscan internacionalizarse, el número de acuerdos de asociación en el extranjero que establecen programas de intercambio universitario ha aumentado en general. Según el sitio web del Ministerio de Educación de Japón, China estuvo en la cima con casi 4.500 del total de 24.792 asociaciones oficiales firmadas con universidades japonesas en 2014, las últimas cifras disponibles, con Estados Unidos en segundo lugar con 3.187 acuerdos.

Se están llevando a cabo varios proyectos de colaboración bilaterales de investigación entre las universidades japonesas y chinas, y los científicos japoneses citan los méritos de tales asociaciones en un contexto de disminución de los fondos japoneses para la investigación.

Además de los acuerdos entre universidades individuales, el Programa de Investigación Colaborativa Estratégica Internacional afiliado al gobierno bajo la Agencia de Ciencia y Tecnología de Japón enumera 19 acuerdos de investigación respaldados por los gobiernos de China y Japón, que duran principalmente de 3 a 4 años. Las áreas principales son ciencias biológicas, medio ambiente y energía.

«Hay una clara ventaja en aumentar nuestros proyectos de investigación en colaboración con universidades chinas», dice Takayuki Takarada, profesor de ingeniería ambiental de la Escuela de Graduados de Ciencia y Tecnología de la Universidad de Gunma, una universidad nacional involucrada en varios estudios conjuntos sobre energía y contaminación ambiental con Universidades chinas.

Takarada participa en una colaboración bilateral de investigación de tres años en el desarrollo de tecnología de reciclaje para productos desechables. La asociación combina la experiencia avanzada de Japón en investigación básica con los chinos que contribuyen a la financiación de la investigación.

El principal beneficio para su investigación y la universidad es «el acceso a más fondos de China». Además, el país es un vasto campo de pruebas en el que la contaminación por basura es un problema grave y continuo «, explicó Takarada.

El proyecto financiado por la mayoría de China finalizará en septiembre con la publicación de un documento conjunto.

Áreas de colaboración

La gran mayoría de la investigación conjunta sino-japonesa se centra en los campos de los recursos energéticos, la contaminación ambiental y oceánica y la agricultura, todos sectores importantes en el crecimiento económico de Asia. Hay otras áreas de colaboración, aunque estas solo crecen lentamente.

Takehiko Kobayashi, profesor del Instituto de Biociencias Cuantitativas de la Universidad de Tokio, explica que la colaboración con China, con su sistema político diferente, sigue siendo una nueva área que necesita una «exploración cuidadosa».

«Hay mucho por resolver en términos de acuerdo, intercambio de patentes y política militar. Llegar a conocerse es el primer paso en la dirección correcta «.

Las relaciones políticas se tensaron

Las relaciones políticas entre Japón y China se han tensado en los últimos años debido a las tensiones sobre reclamos competitivos en el Mar Oriental de China, pero el liderazgo chino por su parte dejó en claro que no se opone a los intercambios de persona a persona, incluidos los científicos. En 2015, incluso cuando las tensiones eran altas, la Universidad de Tokio y la Universidad de Pekín de Japón firmaron un «acuerdo de asociación estratégica» para ir más allá de los acuerdos de intercambio existentes y llevar a cabo más programas conjuntos.

Los expertos señalan que China se ha vuelto más atractiva como socio de colaboración a medida que languidece el financiamiento de investigación japonés y Japón se queda atrás en investigación líder mundial.

Según las estadísticas publicadas el año pasado por el Instituto Nacional de Política Científica y Tecnológica afiliado al gobierno, Japón ahora está a la zaga de los gastos de investigación de Estados Unidos y China, y ha descendido en su cuota de documentos de investigación citados. Japón produjo solo el 3.1% de la investigación internacional en comparación con los EE. UU. Con el 28.5% de los artículos citados internacionalmente, China con el 15.4% y el Reino Unido con el 6.2%.

Tipos de colaboración

Algunas investigaciones colaborativas con China involucran a universidades de ambos países que trabajan independientemente y comparten datos y análisis durante talleres o debates. Pero otros miran problemas comunes a ambos países.

Un programa conjunto de investigación sobre la prevención del cáncer financiado por el gobierno japonés se inició en virtud de un memorando firmado en noviembre de 2008 entre el Ministerio de Salud, Trabajo y Bienestar de Japón y su homólogo chino.

Tanto Japón como China tienen altas tasas de consumo de cigarrillos de tabaco en comparación con el resto del mundo y los documentos del proyecto señalan que ambos países también comparten altas incidencias de hepatitis y cáncer de hígado y prácticas étnicas y de estilo de vida similares.

Bajo el proyecto de investigación conjunta, los científicos japoneses podrán acceder a datos chinos y viceversa, fortaleciendo los resultados.

A pesar de la creciente tendencia de la colaboración en investigación, los expertos señalan que la gran mayoría de los proyectos en curso con China tienden a ser a corto plazo y se centran principalmente en los intercambios de estudiantes entre los dos países.

Por ejemplo, el Sakura Science Plan de la Agencia de Ciencia y Tecnología de Japón lleva a cabo el programa de Actividad de Investigación Colaborativa dirigido a la prestigiosa Academia China de Ciencias, con énfasis en el intercambio bidireccional de experiencia en investigación.

Los investigadores chinos son invitados regularmente a experimentar la tecnología y la cultura de investigación de vanguardia de Japón. El objetivo es establecer vínculos bilaterales más estrechos entre científicos y crear redes de investigación, e incluye simposios conjuntos y premios para doctorandos.

Eiichi Yamaguchi, profesor de la Escuela de Graduados de Estudios Integrados Avanzados en Supervivencia Humana, Universidad de Kioto, sostiene que la colaboración china solo aumentará.

«Seguir adelante con la colaboración internacional, especialmente con China, que está produciendo una investigación de alta calidad y tiene grandes fondos, es el camino a seguir», dijo.

Fuente: http://www.universityworldnews.com/article.php?story=20180425150957877

Imagen tomada de: http://www.scmp.com/news/china/policies-politics/article/2134895/chinas-spending-research-and-development-14pc-2017

Comparte este contenido:

Estudiantes vietnamitas miran a Estados Unidos y se dirigen más hacia el norte

Asia/Vietnam/universityworldnews.com

El año pasado, he tenido noticias de bastantes padres y estudiantes vietnamitas que decidieron elegir Canadá en lugar de los Estados Unidos como su principal destino de estudio en el extranjero o que estaban considerando la posibilidad de trasladarse de una institución estadounidense a una canadiense. Aunque las anécdotas son útiles y a menudo despiertan mi interés en aprender más sobre las posibles tendencias, prefiero los datos duros, que pueden confirmar si las historias que escuchamos de varias fuentes en Vietnam y en otros lugares indican un cambio, o incluso un cambio radical.

Con las últimas cifras publicadas por la Oficina Canadiense para la Educación Internacional , el jurado ha emitido un veredicto, motivo de regocijo en Canadá y otra nube oscura y ominosa que se cierne sobre el horizonte internacional de reclutamiento de estudiantes de Estados Unidos, al menos a mediano plazo. Por primera vez, hay casi la mitad de estudiantes vietnamitas en Canadá que en los Estados Unidos, un país con nueve veces la población y miles de instituciones educativas más. Sorprendentemente, los estudiantes vietnamitas tuvieron el mayor porcentaje de aumento en 2017 con un 89%, lo que convierte a Vietnam en el mercado de más rápido crecimiento en Canadá.

Canadá es ahora uno de los cinco principales países anfitriones para estudiantes vietnamitas, después de Japón, Estados Unidos y Australia, seguido de China.

Es la flor fuera de los Estados Unidos?

Parece que la flor, o al menos algunos de sus pétalos, está temporalmente fuera de la rosa roja, blanca y azul para el creciente número de padres y estudiantes vietnamitas. ¿Es posible que el «frío» y el «aburrimiento» se hayan complementado o suplantado en sus mentes con la calidad, la tolerancia, la apertura y la seguridad?Agregue a esa mezcla atractiva ‘menos costosa’ que la educación ofrecida por el país que limita al sur (una razón para esto es la tasa de cambio actual favorable).

De hecho, en los últimos tres años la inscripción vietnamita en Canadá, principalmente en educación superior, saltó de 5,000 a casi 15,000. Eso es un aumento récord del 300% con respecto a 2015. Los estudiantes vietnamitas ahora representan el 3% de la inscripción internacional total en Canadá y el quinto en términos de país de origen, como lo hacen en los EE. UU., Casualmente, después de China (28%), India ( 25%), Corea del Sur (5%) y Francia (4%).

En la actualidad, hay casi medio millón (495,525) de estudiantes internacionales en Canadá, un aumento del 20% con respecto al año anterior. Esto contrasta con los EE. UU. Que experimentaron un anémico aumento del 2% en la matrícula de estudiantes internacionales de mayo de 2016 a mayo de 2017. Alrededor del 84% se encuentran en tres provincias: Ontario (48%), Columbia Británica (24%) y Quebec (12% ) Aparte de Vietnam, los incrementos más impresionantes de un año fueron para estudiantes de India (63%), Irán (45%), Bangladesh (41%), Brasil (28%) y México (16%).

Al igual que en los EE. UU. Y otros países, la mayoría de los estudiantes vietnamitas cursan estudios superiores, incluidos institutos y universidades.

Para algunos vietnamitas, Canadá es su país de primera elección. Para otros, es un país de segunda opción después de los EE. UU., Australia o el Reino Unido. Al final del día, no les importa a sus anfitriones canadienses. Cuando su inscripción se triplica en un lapso de tres años, las instituciones y comunidades se benefician de innumerables maneras, incluso financieramente.

Un beneficio a más largo plazo es el potencial para la publicidad de boca en boca, suponiendo que la mayoría de esos estudiantes estén contentos, académicamente, culturalmente y socialmente.

Hay una serie de poderosos factores de atracción y atracción que probablemente ayuden a mantener un crecimiento de dos dígitos en el futuro previsible, en detrimento de los EE. UU. El primero se aplica al estudio en el extranjero en general e incluye la creciente capacidad de pago, los lazos familiares, la perspectiva de un financiamiento sustancial basado en el mérito para estudiantes de alto rendimiento y el prestigio asociado con una credencial educativa extranjera, que todavía tiene una influencia considerable. Por lo tanto, centrémonos en los factores de atracción, la mayoría de los cuales son exclusivos de Canadá.

Factores de atracción

Aparte de las preocupaciones superficiales sobre el clima, tenga en cuenta que hay estudiantes vietnamitas en los 50 estados de EE. UU. Y en la mayoría de los países europeos, incluida Escandinavia. Canadá tiene una serie de ventajas competitivas frente a competidores amigos como Australia, el Reino Unido y EE. UU. . Éstas incluyen:

  • Costo razonable y alta calidad : por ejemplo, la matrícula, las tarifas y los gastos de manutención durante un año en Saint Mary’s University, una universidad de artes liberales en Halifax, Nueva Escocia, costó US $ 22,000 sin ninguna beca ofrecida. Eso está en el rango superior de muchos colegios comunitarios estadounidenses, especialmente en las áreas de alta demanda con un costo de vida generalmente más alto.
  • Oportunidades de trabajo fuera del campus : a diferencia de Estados Unidos, que restringe el empleo en el campus a los estudiantes internacionales, a sus compañeros en Canadá se les permite trabajar fuera del campus. El salario mínimo es de CA $ 14 (US $ 11) en Ontario, CA $ 11.25 en Quebec y CA $ 11 en Nueva Escocia, por ejemplo.
  • Programas cooperativos: las instituciones que ofrecen estos programas son especialmente atractivas para padres y estudiantes, no solo por las oportunidades de ganar dinero y costear, sino por la valiosa experiencia profesional que ofrecen.
  • Lazos familiares : hay aproximadamente un cuarto de millón de vietnamitas y canadienses, la mayoría de los cuales viven en Ontario (en Toronto), Alberta, Columbia Británica y Quebec.
  • Canadá de habla francesa : Montreal es un atractivo para algunos padres que prefieren que sus hijos vivan y estudien en un entorno de habla francesa.
  • Justin Trudeau, primer ministro : Para muchos, él es el atractivo y carismático rostro público de un Canadá que es acogedor, dinámico, tolerante, educado y civilizado. (Un alumno usó la última palabra en una breve encuesta de asociación de palabras que administré en Facebook). La comparación con su contraparte en los EE. UU. Es escueta, vívida y conmovedora.
  • Trabajo post graduación y oportunidades de emigración a través de programas provinciales : por ejemplo, el Programa para Nominados de Nueva Escocia está dirigido a futuros inmigrantes que tengan las habilidades y experiencia necesarias en Nueva Escocia, incluidos médicos, empresarios, graduados internacionales y trabajadores calificados.
  • Seguridad : Canadá ocupó el octavo lugar en el mundo en seguridad el año pasado, según el Índice Global de Paz 2017 . El Reino Unido ocupa el puesto 41 y el estadounidense el 114 en la misma encuesta. Mientras que los tiroteos masivos y otros actos violentos son acontecimientos perennes en los EE. UU., Son eventos estadísticamente raros en Canadá.

Tenga en cuenta que este crecimiento de la inscripción sin precedentes se logró sin una campaña nacional de marketing digital y tradicional de Estudio en Canadá sostenida en Vietnam. Tal vez es una prueba de que finalmente se alcanzó un punto de inflexión que ha estado hirviendo por un tiempo.

El sueño americano se mudó a Canadá.

Tal fue el título de un artículo de Macleans 2017 con amplia evidencia para probar esa audaz afirmación. Canadá se ha convertido en un destino de estudio de ensueño para cientos de miles de estudiantes internacionales que buscan una educación de calidad a un precio razonable en un entorno seguro y acogedor, con posibilidades de trabajar fuera del campus mientras estudian y de emigrar, si cumplen ciertos requisitos. criterios y ese es su objetivo a largo plazo. Actualmente ocupa el tercer lugar después de los Estados Unidos y Australia, seguido por el Reino Unido y Alemania para completar los cinco primeros.

En algunos aspectos, Canadá tiene el paquete completo, que incluye oportunidades de estudio de alta calidad a un costo menor que en otros países de habla inglesa, una política de inmigración ilustrada y percepciones favorables de Canadá como progresivo y pacífico.

Compare y contraste eso con la situación actual en los Estados Unidos: nativista con un clima antiinmigración relacionado; inquietudes de los padres y estudiantes sobre lo que sucederá con los programas de capacitación práctica opcional o H1-B;un sistema político inestable; incidentes frecuentes de violencia con armas de fuego; y la creciente percepción de que Estados Unidos no es tan acogedor y abierto como lo fue antes. Eso es exactamente lo que están haciendo muchos padres y estudiantes vietnamitas.

El Dr. Mark Ashwill es director general y cofundador de Capstone Vietnam, una empresa de consultoría educativa de servicio completo con oficinas en Hanoi y la ciudad de Ho Chi Minh. Ashwill ha vivido y trabajado en Vietnam desde 2005. Él bloguea en An International Educator en Viet Nam .

Fuente: http://www.universityworldnews.com/article.php?story=20180424102223373

Comparte este contenido:
Page 288 of 773
1 286 287 288 289 290 773